سوشل میڈیا پر اس وقت گرما گرم بحث جاری ہے، پاکستان کے اولمپکس گیمز میں کوئی بھی تمغہ حاصل نہ کرنے کی وجہ کھلاڑیوں کو نہیں بلکہ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر سید عارف حسن کو قرار دیا جارہا ہے۔
صارفین ایسوسی ایشن کے صدر کے خلاف دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں، بالخصوص جب ان کی 17سالہ صدارت میں پاکستانی کھلاڑی ایک بھی اولمپکس تمغہ جیت کر نہ آئے ہو۔ سوشل میڈیا صارفین کا مطالبہ ہے کہ ناقص اور غیرمعیاری کارکردگی پر فوری طور پر سید عارف حسن کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔
سید عارف حسن کون ہیں؟
سید عارف حسن نے 2004میں پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی صدارت سنبھالی تھی۔ ان سے پہلے سید واجد علی اس عہدے پر فائز رہے، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے بہتر اقدامات کرنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ سید عارف حسن ہر چار سال بعد ہونے والے ایسوسی ایشن کے انتخابات میں خود تو جیتتے چلے آئے ہیں لیکن اولمپکس میں ان کے بھیجے گئے کھلاڑی ہر بار دوسرے کھلاڑیوں کو وکٹری اسٹینڈ پر حسرت سے کھڑا ہوا دیکھ کر صبر کے گھونٹ پیتے رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں دیکھا جائے تو اولمپکس کیلئے ایک مرحلہ وار طریقہ ہے اور اس تک رسائی کیلئے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے ماتحت4صوبائی اور ایک آزاد کشمیر کی اولمپکس ایسوسی ایشن کمیٹی کام کرتی ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی دستے کی کارکردگی
جاپانی شہر میں کھیلوں کے ان بڑے مقابلوں میں پاکستانی دستے میں 10کھلاڑی شامل تھے، جبکہ 12آفیشلز ٹیم کے ساتھ گئے تھے، یعنی کھلاڑیوں سے زیادہ آفیشلز کی تعداد تھی۔ ان میں ٹینس فیڈریشن کے صدر، کوچ بن کر ٹوکیو دستے میں شامل ہوئے تھے۔ پاکستانی دستہ ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ لوٹا ہے۔اس کی ایک وجہ کھلاڑیوں کی تربیت اور سہولیات کی عدم دستیابی بتائی گئی ہے۔
پاکستان کا آخری تمغہ
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان نے آخری مرتبہ اولمپکس میں سن 1992میں کوئی تمغہ حاصل کیا تھا۔ اُس سال بارسلونا میں ہونے والے مقابلوں میں قومی ہاکی ٹیم نے تیسرے نمبر پر آنے پر کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے بعد جہاں پاکستان میں کھیلوں بالخصوص ہاکی کا معیار تنزلی کا شکار ہوا، وہیں مختلف ایسوسی ایشنز کے باہمی اختلافات نے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی منظر عام پر آنے کا موقع نہیں دیا۔ کیا یہ ستم کم ہے کہ ہاکی جیسا کھیل، جسے دنیا کی ہر ٹیم نے ہم سے سیکھا، اب پاکستانی ٹیم ناقص کارکردگی کی بنا پر عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 5 تک میں نہیں آتی اور اولمپکس مقابلوں تک سے باہر ہوچکی ہے۔ یہ ہی عالم اسکواش کا بھی ہے۔ ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کی حق تلفی کرکے سفارشی اور منظور نظر کھلاڑیوں اور افراد کو ٹیم اور فیڈریشنز میں جگہ ملتی رہتی ہے۔

کیا وزیراعظم عمران خان کوئی ایکشن لیں گے؟
سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان ٹوئٹ کے ذریعے ایتھلیٹکس کے گر کر اٹھنے کی مثالیں تو دیتے ہیں مگر یہاں یہ عمل الٹا ہے۔ سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے بیان پر صارفین اس بات کا شکوہ کر رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم بس اسی قول سے کام چلاتے رہیں گے یا پھر واقعی کوئی ایکشن لیں گے؟۔ صارفین اس جانب بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ ملک کا سربراہ ایک اسپورٹس مین ہے اور ان کے دور میں کرکٹ ہی نہیں ہر کھیل میں پاکستان زوال کا شکار ہوتا جارہا ہے۔
اسی طرح عمران خان تو انصاف کا نعرہ لگاتے ہیں، پھر وہ آخر کب ایکشن لیں گے؟عام طور پر ہر شکست کے بعد تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بنتی رہتی ہیں۔ کیا اس بار بھی یہی کہانی دہرائی جائے گی؟۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم کچھ نہ کریں۔ صرف کھیلوں کے معیار کو ہی بہتر بنادیں۔ کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جو پوری قوم کو یکجاں کردیتا ہے۔ کیا وزیراعظم اتنی ہمت کریں گے کہ 17برس سے اولمپکس ایسوسی ایشن سے چمٹے سید عارف حسن سے باز پرس نہیں بلکہ استعفیٰ مانگ سکیں؟
Discussion about this post