پاکستان۔ ان تھک محنت اور جدوجہد کا ثمر، جس کی بنیاد میں ہزاروں مسلمانوں کا لہو شامل ہے، ایک ایسے خواب کو پانے کی جستجو ملے گی، جس کا تصور ایک وقت میں ناممکن نظر آرہا تھا۔ اسی سیاسی جدوجہد میں اُس وقت تیزی آئی، جب قائد اعظم محمد علی جناح کانگریس چھوڑ کر آل انڈیا مسلم لیگ کا حصہ بنے، بانی پاکستان کے اس اہم فیصلے نے جیسے مسلمانوں کے اندر نئی روح پھونک دی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت نے جیسے مسلمانوں کی سوچ میں یکسر تبدیلی پیدا کردی۔ دو قومی نظریہ فروغ پانے لگا۔ یہ خیال تقویت بخشنے لگا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، جن کا رہن سہن اور سوچ جداگانہ ہیں۔
مسلمانوں کو احساس ہوا کہ درحقیقت کانگریس ایک انتہا پسند جماعت ہے، جس کا واحد مقصد ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کو غضب کرنا ہے۔ جو اپنی اکثریت سے برصغیر کے مسلمانوں کے مستقبل کے فیصلوں پر اختیار چاہتی ہے۔ مسلمانوں کو جان بوجھ کر زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے دھکیل کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے ۔ درحقیقت ا س سازش یا منصوبہ بندی سے دھیرے دھیرے پردہ چاک ہونے لگا تو برصغیر کے مسلمان، مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے لگے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز اور پرجوش قیادت کا سحر انہیں اس بات پر اور اکسا رہا تھا کہ مسلمانوں کے لیے اب علیحدہ ریاست کا وجود ضروری ہے۔

اور پھر ایک صبر آزما آزمائش اور ان گنت بحرانوں سے گزر کر جب پاکستان معروض وجود میں آیا تو اس نئی مملکت میں آباد ہونے والوں کو پھر نئی مشکلات نے آگھیرا۔ ہجرت کے لمبے، طویل اور تھکا دینے والے سفر کے دوران مختلف مقامات پر انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں تاریخ کی وہ بدترین قتل و غارت گری ہوئی، جس کے لرزہ خیز قصے سن کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے، لیکن پاکستانی قوم بھی عجیب ہے، جو ہر مشکل، ہر امتحان اور ہر بحران کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
ابتدائی مشکلات کے باوجود پاکستان نے ثابت قدمی سے ہر موڑ پر سرخرو ہونے کی روشن مثالیں قائم کیں۔ دشمنوں نے کئی چالیں چلیں، کئی ہتھکنڈے استعمال کیے، مگر ہر بار ناکامی اور نامرادی ان کے نصیب میں لکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان محفوظ اور مضبوط ترین ہے۔ پاکستانیوں کا اتحاد اور یقین محکم اقوام عالم کے لیے ضرب المثال بنا ہوا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ وہ قوم ہے جس پر مشکلات آئیں، آفات آئیں، یا سانحات رونما ہوں ، یہ پہلے سے اور زیادہ مضبوط ہو کر اٹھتی ہے۔ دنیا قدر کی نگاہ سے پاکستان کے فلاحی کاموں کے جذبے سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھتی ہے۔ کیونکہ یہاں کا ہر شخص ’ایدھی‘ ہے۔ جس کے دل میں انسانیت کا درد ہے۔ جو رنگ و نسل، مذہب اور فرقے سے بالاتر ہو کر صرف پاکستانی بن کر ایک دوسرے کی معاون ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جہاں مختلف تہذیب اور ثقافت کا حسین امتزاج ملتا ہے، جہاں بلندو بالا پہاڑ بادلوں سے سرگوشی کرتے ہیں، جہاں کھیت کھلیان ملکی ترقی کی صدائیں لگاتے ہیں،جبھی تو دنیا کا ہر سیاح پاکستان آنے کے بعد یہاں کی مہمان نوازی کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم نے 80ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دیا ہے، شہدا کے ورثا ایک ایسے ملک کے نگراں ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں جس کے لیے ان کے جوان اور بزرگوں نے جانیں قربان دیں۔ افواج پاکستان ہر خطرے اور ہر دہشت گردی کا مقابلہ بہادر قوم کے ساتھ کر رہی ہے، جہاں کبھی دہشت گردی نے معیشت کا پہیہ جام کیا ہوا تھا، جہاں دہشت گردی کا ناسور پھل پھول رہا تھا، وہاں امن و امان ایسا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا وسیع جال بچھا ہوا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستانی قوم کا عزم اور استقلال بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ کیونکہ پرامن پاکستان کا خواب سچ ہو چکا ہے، دنیا پاکستا ن کو ذمے دار ریاست مان کر ہم پر اپنے فیصلے تھونپنے کے بجائے برابری کی بنیاد پر گفت و شنید پر مجبور ہیں۔ ترقی اور خوش حالی کی اس راہ پر چلتے ہوئے ہر پاکستانی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ درحقیقت یہ کھلی مسکراہٹوں کی آزاد فضا ہے۔
Discussion about this post