بھارتی ریاست گجرات میں الیکشن سر پر ہیں اور ایسے میں نریندر مودی یہ ثابت کرنے کے لیے وہ عوام میں خاصے مقبول ہیں ہر حربہ استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ عوام کو جھانسے میں رکھنے کے لیے ان کی میڈیا ٹیم ہر روز کوئی نہ کوئی ڈراما رچاتی رہتی ہے۔ حال ہی میں جب وہ گجرات پہنچے تو ایک اورڈراما بے نقاب ہوگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے ڈیفنس ایکسپو کا افتتاح بھی کیا جس کے بعد ان کا رخ اسکول آف ایکسی لینس تھا۔ جہاں پہنچ کر موصوف نے افتتاح کرنے کے بعد طالب علموں کے ساتھ فوٹو سیشن بھی کرایا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ مودی جی بچوں کے ساتھ کلاس روم میں بیٹھ گئے۔ بچوں کے ساتھ لیپ ٹاپ تھا جس کے ذریعے وہ مختلف سوالات کو حل کرنے میں مصروف تھے۔ مودی جی بچوں کی ڈیسک پر بیٹھ کر ان سے سوالات بھی کرتے رہے اور بظاہر یہی تاثر دیا گیا کہ یہ اسکول آف ایکسی لینس ہے۔

دلچسپ خبریں تو مودی جی کی روانگی کے بعد منظر عام پر آنے لگیں جب بتایا گیا کہ جس اسکول مودی جی گئے تھے وہ تو سرے سے تھا ہی نہیں بلکہ اسکول کا سیٹ لگا کر مودی اور ان کی پارٹی نے عوام کو بے وقوف بنایا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وہ شام تک اس اسکول کو تلاش کرتے رہےجہاں مودی جی بیٹھ کر بھاشن دے رہے تھے لیکن وہ مل کر نہیں دیا۔ یہی نہیں اسکول کے بچے اور اساتذہ کا بھی کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ جس جگہ مودی بیٹھے نظرآئے وہ اسکول کی کلاس نظر نہیں آ رہی، یہ ایک ڈرامائی کلاس روم ہے جو شوٹنگ کے لیے بنایا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے سوشل میڈیا پر جاری تصاویر کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے لکھا کہ اسکول میں کوئی کھڑکی نہیں بلکہ اس کی پینٹنگ ہے۔ کلاس میں میزوں کی صرف ایک قطار تھی ۔ دیواریں نقلی تھیں ۔ بچوں کے لباس اور جوتے ایک دم نئے لگ رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی اپوزیشن جماعتوں کا یہی موقف ہے کہ تعلیم کی جگہ کو مودی نے نقل کا در بنادیا۔ کانگریس کے چھتیس گڑھ انچارج اور پارٹی کے سکریٹری چندن یادیو کے مطابق مودی کی شوٹنگ کے لیے اسکول کا سیٹ لگایا گیا تھا۔ سستے ڈراما سیریل بھی اتنے نقلی نہیں ہوتے جتنے کہ مودی جی کے نیوز شوٹس ہوتے ہیں۔ اسی طرح اتر پردیش کانگریس کی طرف سے لکھا گیا کہ فلم کی شوٹنگ ہونی تھی۔ کلاس روم پلائیووڈ سے بنوایا گیا۔ کھڑکی پر توجہ نہیں گئی تو یکایک پینٹنگ کی کھڑکی بنا دی گئی۔

Discussion about this post