وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری اقوام متحدہ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ جس میں اُن کا یہی کہنا تھا کہ پاکستان ٹی ٹی پی کی سرحد پار دہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرےگا۔ جانتے ہیں کہ ملک کے دشمنوں کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کو مالی اور دیگر معاونت مل رہی ہیں جس کے شواہد بھی ہیں۔ اب پاکستان ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ نے ایک بار پھر بھارتی دہشت گردی کو اقوام عالم کے سامنے عیاں کرتے ہوئے کہا کہ ثبوت ہیں کہ کس طرح بھارت، ٹی ٹی پی کو مالی اور انتظامی معاونت کررہا ہے۔ اس سارے کام میں کابل کی سابق حکومت کے کارندے بھی ملوث تھے۔

وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کی مالی ماونت کی جڑیں کاٹ کر رہیں گے۔ اسلام آباد، کابل کے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ تعلقات پر حکمت عملی کی نظرثانی بھی کرسکتا ہے۔
بلاول کے بیان پر بھارت میں احتجاج
دو دن پہلے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اقوام متحدہ میں پاکستان پر بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے دہشت گردی کا ذمے دار ٹھہرایا اورساتھ ہی اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا بھی الزام عائد کیا۔ جس کے جواب میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خطاب میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن تو مرچکا ہے لیکن گجرات کا قصاب زندہ ہے اور وہ بھارتی وزیراعظم ہے۔ بلاول بھٹو کے نریندر مودی کو ” گجرات کا قصاب” کہنے پر بھارت میں انتہا پسندوں نے بلاول بھٹو کے خلاف مظاہرے بھی کیے۔ اُدھر پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا بیان حقیقت پسند اورسچائی پر مبنی ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ 2002 میں کس طرح گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ بھی سب کو معلوم ہے اس گھناؤنے عمل کے پیچھے کون تھا۔ افسوس تو یہ ہے کہ ماسٹر مائنڈ انصاف سے بچ کر اب بھارت کے اہم سرکاری عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ بھارت مظلومیت کی جھوٹی اور گھڑی ہوئی داستان دنیا کو سنا رہا ہے۔ بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں اور یہی اس دور کی سب سے بڑی سچائی ہے۔
Discussion about this post