وزارت داخلہ نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنا جواب جمع کرایا تھا جس کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی لگانا ضروری تھا،ایکس کی بندش اظہار رائے کے آئینی حق کی خلاف ورزی نہیں۔ ایکس پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی پاکستانی قوانین کی پاسداری کےمعاہدے کا شراکت دار ہے، ایکس نے پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق حکومت پاکستان کےاحکامات کی پاسداری بھی نہیں کی، حکومت پاکستان کے احکامات کی پاسداری نہ ہونے پر ایکس پرپابندی لگانا ضروری تھی۔ اب پاکستانی وزارت داخلہ کے اسی جواب پر ایکس نے اپنے مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کے تحفظات کو سمجھنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب نون لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے ایکس کی پابندی کو بلاجواز قرار دیا۔ خواجہ سعد رفیق نےسماجی رابطے کی سائیٹ ایکس( سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایکس سے پابندی ختم کی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے دور میں لگائی گئی اس پابندی کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، جگ ہنسائی سے بچا جائے۔ سیاست کا مقابلہ صرف سیاست سے ہوگا۔

Discussion about this post