اسلام آباد ہائی کورٹ میں موبائل سمز بلاک کرنے سے روکنے کے کیس کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے سم بلاک کرنے سے متعلق نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حکم کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سم بلاک کرنے سے نہیں روکا صرف نجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے روکا تھا۔ سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ جو حکم امتناعی جاری کیا اسے خارج کیا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے نوٹس کردیتے ہیں ویسے بھی مین کیس 27مئی کو مقرر ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سیکشن 144 مکمل جواب فراہم کرتا ہے جو ٹیکس سے متعلق ہے، جس کی آمدنی کم ہوگی ظاہر ہے وہ اپلائی بھی نہیں کرے گا، این ٹی این نمبر سے متعلق بھی چیزیں واضح ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹیکس نیٹ سے متعلق جو عام مزدور ہیں جس کا کھوکھا ہے ظاہر ہے وہ تو اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
اٹارنی جنرل بولے جی بالکل انکو تو نوٹس جائے گا ہی نہیں۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ سم بلاک کرنے سے نہیں روکا صرف نجی کمپنی کے خلاف کارروائی سے روکا تھا، عدالت نے حکومت کی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 مئی تک جواب طلب کرلیا۔
Discussion about this post