پاکستان میں رہنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی رضاکارانہ واپسی کا آج آخری روز ہے۔ وفاقی وحکومت کا کہنا ہے کہ تمام غیر رجسٹرڈ غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ستمبر کے دوران تقریباً ایک لاکھ غیرقانونی افغان تارکین وطن طورخم اور چمن بارڈر کراسنگ سے رضاکارانہ طور پر ملک واپس چلے گئے ہیں۔ نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگتی کہ چکے ہیں کہ ڈیڈ لائن ( 31 اکتوبر) کے بعد کوئی پاکستانی غیرقانونی تارکین وطن کو پناہ دینے میں ملوث پایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب وزیراعظم انوار الحق نے لمز میں طالب علموں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ تمام افغان دہشت گرد ہوتے ہیں لیکن غیر قانونی سرگرمیوں میں بعض گروہوں کا ملوث ہونا ایک حقیقت ہے، یہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی زندگیوں کی حفاظت کرے۔
Discussion about this post