شوگرلینڈ کے شہریوں کی نگاہیں 22 سے 29 اپریل پر لگی ہوئی ہیں جب شوگرلینڈ سٹی کونسل کی ارلی ووٹنگ کا آغاز ہوگا۔ جبکہ 3 مئی کو الیکشن ڈے ہے۔ مختلف پوزیشن کے لیے امیدوار خاصے فعال اور سرگرم ہیں اور انہی میں عقیل ورک بھی ہیں۔ جو شوگر لینڈ سٹی کونسل ایٹ لارج پوزیشن ون کے لیے قسمت آزما رہے ہیں۔ خوش گفتار اور سنجیدہ لیکن ہنس مکھ شخصیت کے حامل عقیل ورک کی خوبی یہ ہے کہ وہ ناصرف پاکستانی بلکہ ایشیائی کمیونٹی میں بھی غیرمعمولی طور پر مقبول ہیں۔ پاکستان سے امریکا تک کا سفر عقیل ورک کی کامیابی کی داستان سے سجا ہے۔ 15 سال تک پاک فوج میں عظیم الشان خدمات انجام دینے کے بعد عقیل ورک بطور میجر ریٹائر ہوئے۔ 2019 میں شوگر لینڈ منتقل ہوئے۔ جہاں انہوں نے ریئل اسٹیٹ بزنس کی شروعات کی تو یہاں بھی کامیابی اور کامرانی نے ان کے قدم چومے۔ عقیل ورک سینکڑوں گھرانوں اور کاروباری شخصیات کو گھر اور دفاتر کی خریداری میں معاونت کرچکے ہیں۔ شوگرلینڈ کی سماجی، فلاحی اور ثقافتی سرگرمیوں اور محفلوں کی جان تصور کیے جانے والے عقیل ورک 2024 میں فورٹ بینڈ کاؤنٹی کانسٹیبل کے الیکشن میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور انتخابی مہم کا تجربہ انہیں اس الیکشن کے ذریعے خوب حاصل ہوا جبھی تو وہ اب سٹی کونسل کے الیکشن میں مضبوط اور طاقت ور امیدار بن کر ابھرے ہیں۔
عقیل ورک کا ماننا ہے کہ فورٹ بینڈ کاؤنٹی کانسٹیبل کے الیکشن میں انہوں نے یہی محسوس کیا کہ عوام چاہتی ہے کہ ان کے لیڈر ان کے مسائل پر بات کریں اور ان کو حل کریں۔ الیکشن مہم کے دوران وہ کمیونٹی کے اور زیادہ قریب ہوئے تو انہیں کئی مسائل کا علم ہوا جو اب تک ان سے پوشیدہ تھے۔ جس کے بعد ان کا اور کمیونٹی کے درمیان ایک ایسا رشتہ اور تعلق قائم ہوا جس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ شوگرلینڈ کے مسائل حل کرنے کے لیے سٹی کونسل کے الیکشن کے لیے میدان میں اتریں۔ گزشتہ الیکشن مہم کا ہی اثر ہے کہ عقیل ورک کا عزم اور جوش و جذبہ اب بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
یہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد اور اچھوتا اعزاز ہے کہ عقیل ورک اس وقت ناصرف الیکشن مہم میں نمایاں ہیں بلکہ پولیس کیڈٹ کے طور پر بھی تربیت حاصل کررہے ہیں رواں سال جون میں وہ باقاعدہ پولیس افسر بن کر کمیونٹی کی فلاح و بہبود میں اپنی تمام تر توانائی بھی استعمال کریں گے۔ بیک وقت اس قدر مصروفیات اور غیر معمولی کام اور پھرمحکمہ پولیس میں تربیت کے متعلق عقیل ورک کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ سے یہی رہا کہ عوام کی خدمت کریں ۔ ان کے نزدیک قیادت کے معنی ذمہ داری، ایمانداری اور عملی اقدامات ہیں۔ فوج میں جب تھے تو نظم و ضبط اور غیر معمولی دباؤ میں درست اور بروقت فیصلے کرنے کا ہنر سیکھا، پھر کاروباری دنیا میں قدم رکھا تو یہاں ترقی اور خوشحالی کے مواقع جنم دینا سیکھا اور اب پولیس تربیت کے دوران وہ اس بات سے باعلم ہوئے کہ عوام کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کتنے ضروری ہیں۔ عقیل ورک کہتے ہیں کہ ” ان تمام تجربات کو یکجاں کرکے وہ ایک ایسے لیڈر بننے کی آرزو رکھتے ہیں جو شوگر لینڈ کی حقیقی ضروریات کو سمجھے اور پھر ان کے مطابق ہی کام کرے۔ "
سٹی کونسل کے ان الیکشن میں عقیل ورک کے مطابق 3 اہم اور وسیع اہداف ان کے ذہن میں ترتیب دیے جاچکے ہیں۔ عقیل ورک کا کہنا ہے کہ ان میں سب سے اہم عوامی تحفظ ہے جس کے تحت شہری پولیس اور ایمرجنسی سروسز کو مزید ٹھوس اور کارآمد وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شوگر لینڈ ٹیکساس کے محفوظ ترین شہرکی حیثیت برقرار رکھے اور اس کا مثبت پہلو یہ سامنے آئے گا کہ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط تر ہوتا جائےگا۔ اسی طرح معاشی ترقی اور کاروباری مواقع بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ عقیل ورک کا کہنا ہے کہ ” بطور ریئل اسٹیٹ بروکر، شہر کی ترقی اور کامیابی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اب اسی ترقی کو جامع ، متوازن اور ذمے دار طریقے سے اور منزلیں طے کرانا ہے تاکہ مقامی سطح کے کاروبار کو فروغ حاصل ہو اور شوگر لینڈ کے شہریوں کا کاروبار پھلے پھولے۔”
اس الیکشن مہم کے دوران عقیل ورک کا تیسرا اہم ہدف کمیونٹی کی شمولیت کے گرد گھومتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ” ایک بہترین شہر تبھی قائم ہوتا ہے جب اس کے لیڈرز عوام کے ساتھ کھلے دل اور ذہن سے گفتگو کریں۔ ” عقیل ورک کا عزم ہے کہ وہ الیکشن میں سرخرو ہوگئے تو سٹی کونسل میں شوگر لینڈ کے شہریوں کی آوازبنیں گے۔ وہ تواتر کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ شوگر لینڈ کی عوام کو ایک ایسا رہنما چاہیے جو ناصرف ان کے مسائل توجہ سے سنے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرکے ایک تابناک اور روشن مستقبل کو یقینی بنائے۔ شوگرلینڈ کا جائزہ لیں تو یہاں ایک بڑی تعداد پاکستانی نژادامریکیوں کی ہے اور جب عقیل ورک سے یہ معلوم کیا جائے کہ پاکستانی کمیونٹی کے بنیادی مسائل کیا ہیں تو اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا اس حوالے سے وسیع اور کارآمد تجربہ جھلکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ” پاکستانی کمیونٹی محنتی ، فعال اور متحرک ہے، لیکن کاروباری مواقع، عوامی تحفظ اور نوجوانوں کے لیے ترقی کے مزید مواقع کی ضرورت ہے۔ میں کاروباری سپورٹ، پولیس اور کمیونٹی کے مضبوط تعلق اور تعلیمی و اسپورٹس پروگرامز کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنا چاہتا ہوں۔”
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دیگر امیدواروں کے برعکس عقیل ورک کی توجہ کا محور پاکستانی نژاد امریکی نوجوان بنے ہوئے ہیں۔ سٹی کونسل کے الیکشن میں کامیابی کے بعد عقیل ورک ان نوجوانوں کے لیے کیا منصوبے متعارف کرائیں گے۔ اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ” نوجوانوں کے لیے لیڈرشپ اور انٹرن شپ پروگرامز، جدید کمیونٹی سینٹرز اور انہیں سیاست و سماجی خدمات میں شامل کرنے کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ مقصد اور عزم ہوگا کہ نوجوانوں کو ایک مضبوط اور کامیاب مستقبل دیا جائے تاکہ وہ کیمونٹی کی تعمیر و ترقی میں مثالی کردار ادا کرسکیں۔”
شوگر لینڈ سٹی کونسل ایٹ لارج پوزیشن ون کے الیکشن میں عقیل ورک کے ساتھ پاکستانی نژاد امریکی رہنما مظفر وہرہ بھی قسمت آزما رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے اور اسی حوالے سے عقیل ورک کس نوعیت کے خیالات رکھتے ہیں؟ اس پر وہ یہی کہتے ہیں کہ ان کا مقابلہ کسی فرد سے نہیں بلکہ شوگرلینڈ کے بہتر اور کامیاب مستقبل کے لیے ہے۔ مظفر وہرہ کے لیے نیک خواہشات ہیں۔ عقیل ورک کے مطابق وہ سیاست دان نہیں، بلکہ عوامی خدمت گزار ہیں جنہوں نے اپنی تمام تر زندگی، خدمت، قیادت اور ایمانداری کے اصولوں پر گزاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ” میرے پاس قیادت اور خدمت کا وسیع اور بہترین تجربہ ہے۔ میں نے 15 برس افواج پاکستان میں خدمات انجام دیں اورجہاں میں نے نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور قیادت کے بنیادی گُر سیکھے۔ یہ تمام تجربات مجھے مضبوط ، پرجوش، پرعزم، باصلاحیت اور عملی قیادت فراہم کرتے ہیں۔ ووٹرز سے بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس بنیاد پر فیصلہ کریں کہ کون ان کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے اور موثر حل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔عوام کا اعتماد ہی سب سے اہم ہے۔ سب مل کر ہی شوگر لینڈ کو مزید محفوظ، کامیاب، خوشحال اور مضبوط بناسکتے ہیں۔ "
Discussion about this post