22 اور 23 اکتوبر کی شب پاکستانی صحافی ارشد شریف کو کینیا میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ان کا رکنے پر گولیاں چلائی گئیں۔ اس قتل کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اور انٹلی جنس بیورو کے افسران کی ایک ٹیم نے 28 اکتوبر کو کینیا کا رخ کیا تھا۔ اس ٹیم کو کینیا میں وزارتِ خارجہ اور کینیا میں موجود پاکستانی سفارت خانے کی معاونت حاصل رہی۔ اس ٹیم نے پاکستانی صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے دبئی سے پہنچنے، رہائش اور پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کیں۔ اس ٹیم نے کینیا میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی مشاہدہ کیا۔ جبکہ نیروبی پولیس چیف اور دیگرحکام سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے ارشد شریف کی میزبانی کرنے والے 2 بھائیوں وقار اور خرم سے بھی پوچھ گچھ کی۔ یہی نہیں جس گاڑی میں ارشد شریف سفر کررہے تھے اس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کینیا کا رخ کرنے والی اس تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ تیار کرکے وزارت داخلہ کو پیش کرنے کی بھی اب تیاری کرلی ہے۔

Discussion about this post