نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میک کولم جب سے انگلش کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بنے ہیں، اس وقت سے بیرون ملک کے دوروں پر سپورٹنگ اسٹاف کو کم ہی رکھا جارہا ہے لیکن انگلش کرکٹ ٹیم کے موجودہ دورہ پاکستان کے دوران اب اسکواڈ میں ایک نیا اضافہ ہوگا۔ یہ اضافہ کوئی کھلاڑی نہیں بلکہ باورچی ہیں۔ انگلش کرکٹ ٹیم کو اپنے ساتھ باورچی لانے کی یوں ضرورت پیش آئی کہ جب وہ حال ہی میں ٹی 20 میچز کھیلنے پاکستان آئی تو انہیں اس بات کا شکوہ رہا کہ ان میچز کے دوران کچھ ایسے کھانے کھائے کہ بیشتر کھلاڑی پیٹ کی خرابی کا شکار ہوگئے۔ رواں سال آسٹریلیائی ٹیم کو بھی سب سے بڑا دکھا بھی یہی تھا وہ دورہ پاکستان پر اپنا باورچی ساتھ نہیں لائے تھے۔اب چونکہ انگلش کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ میچز کی سیریز کا طویل دورہ ہے اسی لیے انگلش کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ اپنا باورچی بھی بھیج رہا ہے۔

3 ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں یہ باورچی اپنی نگرانی میں کھانا تیارکرائے گا اور انہی پکوانوں کا انتخاب کرے گا جو برطانوی کھلاڑیوں کے لیے مناسب ہوں اور ان کے پیٹ کو خراب کرنے کا باعث بھی نہ بنیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی 20 میچوں کی کپتانی کرنے والے معین علی نے بھی دورہ مکمل کرنے کے بعد یہ کہا تھا کہ وہ کھانے کے اعتبار سے مایوس ہوئے، کراچی میں جتنے اچھے کھانے ملتے ہیں لاہور میں دستیاب کھانوں میں وہ بات نہیں تھی۔ انگلش ٹیم کے لیے یہ بات اطمینان بخش ہے کہ اس بار کوئی میچ لاہور میں نہیں۔ کیونکہ ٹیسٹ میچز راولپنڈی، ملتان اور کراچی میں ہونے جارہے ہیں۔ اب انگلش کرکٹ ٹیم کے ساتھ بطور باورچی عمر میزین پاکستان آرہے ہیں۔ عمر وہی ہیں جو 2018 ورلڈ کپ اور یورو 2020 کے دوران انگلینڈ کی مردوں کی فٹ بال ٹیم کے لیے کھانے تیار کرچکے ہیں۔

Discussion about this post