مراکش کشتی حادثے کے اہم سہولت کار عبدالغفار کو جمعے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے مقدمہ درج کر لیا، حال ہی میں مراکش کشتی حادثے میں بچ جانے والے 7 مسافر اور عبدالغفار نامی سہولت کار پاکستان پہنچے تھے، مسافروں کی نشاندہی پر سہولت کار کو حراست میں لے کر فیصل آباد منتقل کیا گیا۔ ایجنٹ عبدالغفار سے اہم شواہد برآمد کرلیے گئے، پاکستانی ایجنٹ عبدالغفار نے بڑی تعداد میں عوام کو یورپ بھجوانے میں اہم سہولت کاری کی، ملزم 2023 سے موریطانیہ میں رہ رہا تھا۔ ملزم کا باپ سرفراز اور قریبی رشتہ دار منیر 2018 سے موریطانیہ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، گرفتار ملزم عبدالغفار کے افریقی اسمگلر ابوبکر سے رابطے کے شواہد بھی برآمد کر کیے گئے، ملزم کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ معصوم جانوں سے کھیلنے والے اسمگلرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ بیرون ملک سے انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے والے عناصر کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا جائے گا۔ اُدھر ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور نے بڑی کاروائی کرتے ہوئے سمندر کے راستے شہریوں کو مراکش سے یورپ بھجوانے میں ملوث ملزم سمیت 2 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کرلیا، ملزمان کی شناخت عمر حیات اور محمد نعیم کے نام سے ہوئی۔
Discussion about this post