وزارت قانون و انصاف نے صدر پاکستان عارف علوی کو الیکشن سے متعلق رائے پر اپنا جواب ارسال کردیا ہے۔ لکھے گئے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس ہی الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار ہے۔ ایک ساتھ صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے صرف الیکشن کمیشن تاریخ دے سکتا ہے، آرٹیکل 48(5) صدرمملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار تب دیتا ہے جب صدر 58(2) کے تحت اسمبلی تحلیل کرے، خط کے مطابق فرض کریں کہ صدر 48(5) پر انحصار کر بھی لیں تو صرف قومی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دے سکتے ہیں۔

پھر اگر صدر قومی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ دیں گے تو ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات ممکن نہیں ہوں گے، صدر کے تاریخ دینے کا اختیار تسلیم کیا جائے تو صوبوں میں تاریخ گورنرز دینے کے مجاز ہوں گے، ایسی صورتحال میں صوبوں کے گورنرز الگ الگ تاریخ دے سکتے ہیں۔ موجودہ اسمبلی آرٹیکل 58(1) کے تحت وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر تحلیل ہوئی ، صدر کو دی جانے والی آرٹیکل 58 ون کے تحت ایڈوائس آرٹیکل 48 سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، آرٹیکل 48 ون کے تحت صدر کے پاس ایڈوائس واپس بھیجنے کا اختیار ہوتا ہے۔ وزارت قانون و انصاف کے جوابی خط کے مطابق آرٹیکل 58 ون صدر کو ایڈوائس واپس بھیجنے کی اجازت نہیں دیتا۔
Discussion about this post