ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ نیشنل پاور کنٹرول کا کہنا ہے کہ اس وقت سسٹم مکمل طور پر بند ہے۔ مرکزی لائنز میں خرابی کی وجہ سے پورا سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس مرمتی کام میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاورڈویژن کا دعویٰ ہے کہ پشاور اور پشاور سپلائی کمپنیز کے محدود علاقوں میں گرڈ بحال کردیے گئے۔ اسلام آباد کے 117 گرڈ اسٹیشنز کو بجلی نہیں مل رہی۔ سیکریٹری پاور ڈویژن راشد محمود نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی بریک ڈاؤن معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ خرابی جنوبی ریجن میں ہوئی ہے۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں بجلی کا کوئی نام و نشان نہیں۔ کہا جارہا ہے کہ 90 فی صد علاقوں میں بجلی معطل ہے۔ کراچی الیکٹرک کے ترجمان کہتے ہیں کہ آج صبح 7 بج کر 34 منٹ پر نیشنل گرڈ میں فریکوئینسی کم ہونے کے باعث متعدد شہروں کو بجلی فراہمی متاثر ہوئی۔اس کا اثر کے الیکٹرک کی ٹیرٹری پر بھی آیا جس سے کراچی کو بجلی فراہمی متاثر ہوئی ہے تاہم کے الیکٹرک کا نیٹ ورک محفوظ اور فعال ہے، عملہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور بحالی کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔
*کراچی پاور اپڈیٹ 1 – بروز 23 جنوری 2023۔ صبح 9:15 بجے*
اطلاعات کے مطابق آج صبح 7:34 نیشنل گرڈ میں فریکوئینسی کم ہونے کے باعث متعدد شہروں کو بجلی فراہمی متاثر ہوئی۔ ترجمان کےالیکٹرک
اسکا اثر کے الیکٹرک کی ٹیرٹری پر بھی آیا جس سے کراچی کو بجلی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ترجمان (1/2)
— Imran Rana, Spokesperson, K-Electric (@imranrana21) January 23, 2023
ترجمان کےالیکٹرک کا کہنا ہے کہ بجلی بندش کی وجوہات کی تحقیقات کے ساتھ ٹیمز بجلی کی بحالی کے لیے بھی متحرک ہیں۔ بجلی کی طویل گھنٹوں کی عدم فراہمی کی بنا پر کراچی کو پانی کی پمپنگ بھی متاثر ہورہی ہے۔ بریک ڈاؤن کے وجہ سے انچ قطر کی لائن نمبر 5 پریشر سے پھٹ گئی۔ پپری ،دھابیجی اورگھارو پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی فراہمی مکمل بند ہوچکی ہے۔ سندھ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی بجلی کا نظام درہم برہم ہے۔ طویل لوڈشیڈنگ نےشہریوں کے معاملات زندگی بری طرح متاثر کیے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی کا موقف
وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کہتے ہیں کہ ملک بھر میں 12 گھنٹوں میں بجلی کی مکمل طور پر فراہمی یقینی ہوجائے گی۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ کوئی بڑا فالٹ نہیں آیا۔ سردیوں میں بجلی کی طلب کم ہوتی ہے اس لیے سسٹم کو رات کے وقت زیادہ تر بند کر دیا جاتا ہے اور صبح دوبارہ آن کیا جاتا ہے۔

صبح 7 بجے کے قریب جب سسٹم کو آن کیا جا رہا تھا تو اس دوران جامشورو اور دادو کے درمیان فریکوئنسی کی کمی کی وجہ سے بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا۔ انہوں نے کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر کہا کہ کراچی میں کراچی میں کے الیکٹرک کا اپنا سسٹم بھی ہے لیکن شہرکو نیشنل گرڈ سے جو 1100 میگا واٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے وہ چند گھنٹوں میں بحال ہو جائے گی۔
Discussion about this post