بھارتی فلموں کے تجربہ کار اداکار نصیر الدین شاہ ایک بار پھر اپنے سچائی میں ڈوبے بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ نصیرالدین شاہ نے مغل حکمرانوں پر تنقید کرنےوالوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر مغل واقعی اتنے ظالم اور خراب تھے تو بھارت میں مغلوں کی تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں جیسے تاج محل اور لال قلعہ کو گرادینا چاہیے۔ نصیرالدین شاہ نے اپنی ویب سیریز ” تاج ڈیو آئیڈڈ بائی بلڈ ” کے سلسلے میں انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت میں بامقصد بحث کی اب گنجائش نہیں رہی۔ لوگ دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھ نہیں رہے۔ تاریخی درست معلومات نہیں ہوتی تو نفرت اور بے بنیاد الزاموں کا سہارہ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک گروہ مغلیہ سلطنت پر الزام تراشی کررہا ہے اور ان کی کردار کشی میں مصروف ہے۔

مغلوں نے ہندوستان میں لوٹ مار نہیں کی۔ مغلوں پر تنقید کی جاتی ہے لیکن لال قلعہ کو مقدس سمجھا جاتا ہے وہ بھی مغلوں نے ہی تعمیر کیا ہے۔ نصیرالدین شاہ نے انتہا پسندوں کو مشورہ دیا کہ وہ مغل حکمرانوں کو بدنام کرنا چھوڑ دیں۔ المیہ یہ ہے کہ بھارت میں اس وقت ٹیپو سلطان بدنام ہیں۔ وہ شخص جس نے انگریزوں کو بھگانے کے لیے اپنی جان کی قربانی دے دی۔ عوام سے دریافت کیا جاتا ہے کہ ٹیپوسلطان چاہتے ہیں یا رام مندر؟ یہ کسی عجیب و غریب منطق ہے؟

Discussion about this post