74 برس کے سیف پراچہ کو بغیر کسی الزام کے قید رکھا گیا۔ جولائی 2003 میں انہیں امریکی سی آئی اے نے بینکاک سے گرفتار کیا جہاں وہ ایک امریکی بزنس مین سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ الزام یہ لگایا گیا کہ ان کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ 2004 تک سیف پراچہ کو افغان بگرام کے فضائی اڈے کے حراستی مرکز میں رکھا گیا اور پھر اس کے بعد گوانتانامو بے کی امریکی جیل منتقل کر دیا گیا ۔ ایک طویل عرصے تک قید میں رہنے والے ان پر دو بار دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔

اس قید کے دوران ان پر کوئی فرد جرم نہیں لگائی گئی ساتھ ہی حیران کن بات یہ ہے کہ ان پر کوئی مقدمہ بھی نہیں چلا۔ جس پرا ن کے وکیل نے قیدیوں کے نظرِ ثانی بورڈ سے رابطہ کیا اور جہاں وہ آ8بار پیش ہوئے۔ بورڈ نے انہیں دیگر 2 قیدیوں سمیت بری کرتے ہوئے رہا کرنے کی سفارش کی۔ سیف پراچہ کی پاکستانی دفتر خارجہ اور بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں سے رہائی کا عمل یقینی ہوا۔ وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سیف پراچہ امریکا میں واقع گوانتا نامو بے جیل میں قید تھے۔ جن کی رہائی پر خوشی ہے ۔
Mr. Paracha, who was detained in Guantanamo Bay 🇺🇸 , has been released & reached 🇵🇰 on Saturday. The Foreign Ministry completed an extensive inter-agency process to facilitate repatriation of Mr. Paracha. We are glad that a citizen detained abroad is reunited with his family. https://t.co/VSTOTAbuMP
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) October 29, 2022
Discussion about this post