اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کے پیکج کے اعلان کی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپنے منشور میں کہا تھا کہ مسلم لیگ ن کو موقع دیا تو رفتہ رفتہ معیشت کی صورت حال بہتر ہوگی اور بجلی کی قیمتیں کم کریں گے۔ وزیراعظم نے اس تاریخی موقع پر گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 7 روپے 41 پیسے کمی کا اعلان کیا وہیں صنعتی زون کے لیے فی یونٹ 7 روپے 59 پیسے کی کمی بھی کردی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کے سر پر دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی اور کاروباری حضرات بجا طور پر اور قوم عمومی طو پر خوفزدہ تھی، کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے۔ ملک کے مخالف خوشی سے پاگل ہوئے جارہے تھے، ان کو یقین ہوچلا تھا کہ اب پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچایا جاسکتا، انہیں اسی طرح یقین تھا جیسے کسی کی موت آجائے تو کوئی بچا نہیں سکتا، پاکستان اب ڈیفالٹ ہوا تو ہوا، یہ ٹولہ اس مقصد کے لیے ہر حد پار کرگیا تھا، اسی ٹولے نے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو خود توڑا۔
وزیراعظم کہتے ہیں کہ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ خدا نے محنت قبول کی اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچالیا، اس مقصد کے لیے پوری قوم ، بزنس کمیونٹی اور غریب لوگوں نے جو قربانیاں دیں اور مصائب برداشت کیے، وہ قابل قدر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج بھی پاکستان میں سب سے کم ہیں، شرح سود 22 فیصد سےکم ہو کر 12 فیصد ہوچکا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ پر آچکی ہے۔ جب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئے گی صنعت، تجارت اور زراعت میں ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان میں معاشی استحکام آچکا ہے، اب اڑان بھرنی ہے۔ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے انکار کردیا تھا، آئی ایم ایف سے بات چیت کی اور بتایا کہ پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے بجائے بجلی کی مد میں عوام کو ریلیف دینا چاہ رہے ہیں۔
Discussion about this post