صائمہ محسن کو برطانیہ کے ایمپلائمنٹ ٹربیونل میں نسلی امتیاز اور غیر منصفانہ برطرفی کے لیے سی این این کے خلاف مقدمہ کرنے کا حق مل گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستانی نژاد برطانوی صحافی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ سی این این کے خلاف مقدمہ کرنے کا حق جیت گئی ہیں۔ اب ایمپلائمنٹ ٹربیونل لندن میں غیر منصفانہ برطرفی، امتیازی سلوک اور دوسرے ملازمین کے برابر تن خوا نہ ملنے پر دائر کیے اُن کے کیس کی سماعت کرے گا۔
I won! I won the hearing against CNN
Employment Tribunal will hear my case on unfair dismissal #disability discrimination & #equalpay in LondonThank you for all your support. Truly
It has helped me get through this https://t.co/xv9fsabG1C— Saima Mohsin (@SaimaMohsin) August 15, 2023
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جج کلیموف نے ابتدائی سماعت کے بعد صائمہ محسن کے حق میں فیصلہ دیا بہرحال یہ کیس کب شروع ہوگا اس کا اعلان ہونا باقی ہے۔ سی این این نے اس پورے معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ یاد رہے کہ 2014 میں صائمہ محسن نے اسرائیل میں ایک اسائمنٹ کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد سی این این کے خلاف نسلی امتیاز اور غیر منصفانہ برطرفی پر عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ صائمہ محسن اس واقعے کی وجہ سے معذور ہوگئی تھیں جنہوں نے سی این این پر زور دیا کہ وہ ان کی اس مجبوری اور معذوری کو دیکھتے ہوئے اسائمنٹ دیں تاکہ وہ اس عرصے میں صحت یاب بھی ہوجائیں لیکن انتظامیہ نے اس سلسلے میں اُن سے معذرت کرلی۔ صائمہ نے تواتر کے ساتھ قانونی کارروائی کے بغیر یہ معاملہ نمٹانے پر اپنی رضامندی ظاہر کی لیکن سی این این نے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں دکھائی۔ صائمہ محسن اب اسکائی نیوز کے لیے فری لانس بنیادپر کام کرتی ہیں۔

Discussion about this post