اسلام آباد کے اسیشل جج نے حریم شاہ لیک ویڈیوز کیس میں صندل خٹک کی درخواست پر سماعت کی جس میں انہوں نے ضمانت کے لیے استدعا کی تھی۔ ملزمہ صندل خٹک کے وکیل کا موقف تھا کہ اُن کی موکلہ کو کوئی نوٹس نہیں ملا تھا لیکن مقدمہ درج کر لیا گیا، حریم شاہ کی صندل خٹک کے خلاف ایف آئی اے لاہور، پشاور میں درخواست خارج ہوئی۔ صندل خٹک نے لائیو اسٹریمنگ شئیر کی، ریکارڈنگ نہیں کی، اسی طرح اُن کی موکلا کے سیل فون سے کوئی ثبوت نہیں ملا، ٹک ٹاک کے قوانین کے مطابق نازیبا ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کی جاسکتیں۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ حریم شاہ کی جب ویڈیوز بنائی گئیں تو تب وہ مسکرا رہی تھیں جو اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ حریم شاہ کی ویڈیوز ان کی مرضی سے بنائی گئیں، صندل خٹک سے دوران تفتیش کچھ برآمد نہیں ہوا، صندل خٹک نے موبائل دے دیا لیکن حریم شاہ کا موبائل نہیں لیا گیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد صندل خٹک کی ضمانت منظور کرلی۔
Discussion about this post