اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے ججز کے خط کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست دائر کر دی۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت ہائی کورٹ ججز کے خط کی روشنی میں شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائے، تحقیقات کے بعد عدلیہ کو نیچا دکھانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ معاملہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل سے متعلقہ ہو تو عدالت کونسل کو جائزے کے لیے سفارشات بھیجے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے خط میں سنگین نوعیت کے واقعات بیان کیے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر فل کورٹ تشکیل دے دیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس کی دوسری سماعت 29 اپریل کو ہوگی
Discussion about this post