امریکی اخبار ” دی واشنگٹن پوسٹ ” کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کو غیر ملکی سربراہان کی طرف سے ملنے والے سینکڑوں تحائف کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے صدارتی تحائف اکٹھے کرنے والے ” نیشنل آرکائیو” سے اس سلسلے میں تعاون طلب کرلیا ہے اور اب ان تحائف کی تلاش ہورہی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور صدر ملے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی فرماں رواں کی طرف سے ٹرمپ کو عبدالعزیز السعود اعزاز ملا تھا، اس کا بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ اسی طرح جاپانی وزیراعظم شنزوآبے نے گالف کھیلنے کے سامان کا قیمتی تحفہ دیا تھااس کا بھی علم نہیں ہوسکا۔روسی صدر پیوٹن نے 2018 عالمی فٹ بال کپ کی گیند تحفے میں جو دی تھی وہ بھی غائب ہے۔

اسی طرح مصری صدر نے ٹرمپ کو جو سنہری مجسمے کا تحفہ دیا تھا وہ بھی نہیں مل رہا۔ یہی نہیں ملکہ الزبتھ دوئم کی دستخط شدہ نایاب تصویر، گاندھی کا مجمسہ، افغان دری، کرسٹل بال اور عمان کے تحفے میں ملے ملبوسات بھی گم شدہ ہوچکے ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق ان تحائف کی مالیت 50 ہزار ڈالر سےزائد ہے۔شک کیا جارہا ہے کہ صدرکے عہدے سے محروم ہونے کے بعد ٹرمپ یہ ساری چیزیں اپنے ساتھ لے گئے۔

Discussion about this post