امریکی بزنس مین اور ٹرمپ انتظامیہ کے قریب تر شخصیت ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو بند کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ادارہ دنیا بھر میں جنگ زدہ علاقوں اور غربت سے متاثرہ ممالک میں سالانہ اربوں ڈالر کی امداد میں پیش پیش رہتا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں ایلون مسک کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں وفاقی اخراجات میں کٹوتی کرنے والے پینل کی سربراہی سونپی ہے۔ اس پینل کے تحت وہ یو ایس ایڈ جیسے اداروں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ یو ایس ایڈ کو مزید چلانا ممکن نہیں ہے اور وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اس ادارے کو بند کر دینا چاہیے۔ یاد رہے کہ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی آفیشل ویب سائٹ 2 روز قبل پہلی بار بند ہونے کے بعد پیر کو ایک بار پھر آف لائن ہوگئی۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ یو ایس ایڈ کو امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ ضم کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یو ایس ایڈ کا ادارہ 1961 کے غیر ملکی امدادی ایکٹ کے تحت امریکی غیر ملکی امداد کو مربوط کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
یہ ایجنسی بیرون ممالک انسانی امداد فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ 2023 میں، اس نے 43 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی اور برطرفیوں سے قبل اس کے پاس 10 ہزار سے زیادہ افرادی قوت تھی۔ ایجنسی بھوک، غربت اور بیماری سے نمٹنے کے منصوبوں میں مدد فراہم کرتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ، یو ایس ایڈ کو محکمہ خارجہ کے براہ راست کنٹرول میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے، جمعہ کو اس تجویز پر بحث کی گئی تھی جب ایجنسی کے بند ہونے کے ابتدائی آثار سامنے آئے۔ یو ایس ایڈ کے ملازمین اب اپنے مستقبل کے بارے میں بےیقینی کا شکار ہیں، جبکہ قانون ساز اور امدادی کارکن ایجنسی کی آزادی ممکنہ طور پر ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
Discussion about this post