اونیجا اینڈر کو ویزا ختم ہونے پر 10 نومبر کو پاکستان سے واپس جانا تھا، لیکن وہ نہیں گئیں، جس کے بعد سے پہلے دربدر رہیں اور پھر مختلف پریشانیوں کا شکار رہیں۔ امریکی خاتون کا ویزا اور ٹکٹ دونوں ختم ہو چکے تھے، جس پر گورنر سندھ کی کوششوں سے انہیں ایگزٹ پرمٹ بھی جاری کردیا گیا تھا جب کہ ایک فلاحی ادارے نے ان کے لیے ٹکٹ کا انتطام کرایا۔ لیکن امریکی خاتون کو واپس وطن بھیجنے کی تمام تر کوشش ناکام رہیں۔ اس وقت امریکی خاتون اونیجا جناح اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کی سکیورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انہیں پیش آنے والی قانونی پیچیدگیوں سےبھی باخبر کردیا ہے جس کے مطابق ان کا ایگزٹ پرمٹ بھی 11 فروری کو ختم ہو جائے گا۔ اگر امریکی خاتون 11 فروری تک واپس نہیں جاتیں تو ان کے خلاف فارن ایکٹ 1946 کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کے لیے مزید قانونی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس قانون کے تحت خاتون کو غیرقانونی قیام کی وجہ سے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا اور پھر انہیں ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ مختلف تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت چاہے تو امریکی خاتون کے ایگزٹ پرمٹ میں مزید توثیق کر سکتی ہے اور خاتون کو انسانی ہمدردی یا رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے کا ایک اور موقع دے سکتی ہے۔
Discussion about this post