میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کئی ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کے عمل کو روک دیا ہے، جن کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو امریکی سیکیورٹی ایجنسیوں نے ناکافی سمجھا تھا۔ مجوزہ ’سفری پابندی‘ کا اطلاق پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک کے شہریوں پر امریکا کے سفر پر نئی پابندیوں سے متوقع تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ ویزا اور سفری پابندیوں کے بارے میں سفارشات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کو رپورٹ پیش کرنے کی ڈیڈ لائن کیا ہے ؟ تواُن کا کہنا تھا کہ 31 مارچ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’ہدف کی تاریخ‘ کا اطلاق اب نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 21 مارچ کو ٹیمی بروس نے اعلان کے بارے میں قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ڈیڈ لائن آج نہیں ہے۔ اب حالیہ پریس بریفنگ میں اُن کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ’ایگزیکٹو آرڈرز پر کام کر رہا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ تاریخ کیوں ملتوی کی گئی، انہوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کر سکتیں ، لیکن اس پر کام کر رہے ہیں کہ ایگزیکٹو آرڈر میں کیا کہا گیا ہے، جو کہ سفری پابندی نہیں ہے، بلکہ دوسرے ممالک کی پابندیوں کی نوعیت ہے، آیا وہ امریکا میں داخلے کے لیے ضروری سیکیورٹی اور جانچ پڑتال کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔
Discussion about this post