امریکی جج جیمز پال اوٹکن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی وائس آف امریکا کو بند کرنے کی کوششوں کو روک دیا، جو امریکی مالی امداد سے چلنے والی بین الاقوامی نیوز سروس ہے۔ عدالت نے اس اقدام کو من مانے اور بے بنیاد فیصلوں کی لاجواب مثال قرار دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اپنے حکم میں جج جیمز پال اوٹکن نے وائس آف امریکا کی براڈکاسٹس کی بحالی کا حکم نہیں دیا۔ تاہم، انہوں نے واضح طور پر ٹرمپ انتظامیہ کو وی او اے کے 1,200 سے زیادہ صحافیوں، انجینئرز اور دیگر عملے کو برطرف کرنے سے روک دیا جنہیں اس مہینے کے شروع میں اچانک چھٹیوں پر بھیج دیا گیا تھا۔ اوٹکن کے حکم میں امریکی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا جو وائس آف امریکا ڈیو فری یورپ اور دیگر حکومت کی مالی امداد سے چلنے والے میڈیا کی نگرانی کرتی ہے کو کسی بھی ایسی کوشش کرنے سے روک دیا ہے کہ وہ ملازمین یا کنٹریکٹرز کو برطرف کرے، کم کرے، چھٹیوں پر بھیجے یا معطل کرے۔ ایجنسی کو کسی بھی دفتر کو بند کرنے یا غیر ملکی ملازمین کو امریکا واپس بھیجنے کا حکم دینے سے بھی روکا گیا ہے۔ یہ مقدمہ وائس آف امریکا کے ملازمین، ان کے یونینز اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے دائر کیا تھا، جنہوں نے الزام لگایا کہ بندش عملے کے آئینی پہلے ترمیم کے حقوق کی خلاف ورزی ہے جو آزادی اظہار پر زور دیتا ہے۔
Discussion about this post