ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ لوئیس روبیالیس نے دو ٹوک لفظوں میں اعلان کردیا کہ وہ خاتون فٹ بالر جینی ہرموسو کا بوسہ لینے پر کسی صورت عہدے سے مستعفی نہیں ہوں گے۔ یاد رہے کہ اتوار کو سڈنی میں خواتین کا عالمی کپ کا فائنل ہوا تھا جس میں انگلینڈ کو اسپین نے شکست دی اور پہلی مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس شاندار کامیابی کے بعد لوئیس روبیالیس نے ہم وطن خاتون فٹ بالر جینی ہرموسو کے ہونٹوں پر بوسہ دیا جس کے بعد انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

فیڈریشن کے ہنگامی اجلاس میں لوئیس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ داغا گیا جسے انہوں نے مسترد کردیا۔ ان کے مطابق وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہیں فیڈریشن سے نکالنے کے لیے سازش ہورہی ہے اور وہ آخر تک لڑیں گے۔ لوئیس روبیالیس کا موقف ہے کہ انہوں نے جینی ہرموسو کی ہمت بندھائی تھی جنہوں نے فائنل میچ میں پینالٹی پر گول اسکور نہیں کیا تھا۔ لوئیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر کر اپنے آپ سے قریب کر کے گلے لگا لیا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا کہ پینالٹی کو بھول جاؤ۔ جس کے بعد میں نے بوسہ لینے کی اجازت مانگی جس پر جینی نے رضامندی ظاہر کی اور یوں یہ ہوا۔

اب اسے غیر ضروری طور پر متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ لوئیس روبیالیس کہتے ہیں جب سے انہوں نے 2018 میں یہ عہدہ سنبھالا انہیں مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بوسے کو جنسی استحصال قرار نہیں دیا جاسکتا۔

Discussion about this post